ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آئی ایم اے کے تقریباً50ہزا رسرمایہ کاروں کی طرف سے کلیم فارم داخل ، 24دسمبر آن لائن کلیم داخل کرنے کی آخری تاریخ

آئی ایم اے کے تقریباً50ہزا رسرمایہ کاروں کی طرف سے کلیم فارم داخل ، 24دسمبر آن لائن کلیم داخل کرنے کی آخری تاریخ

Mon, 21 Dec 2020 10:42:59    S.O. News Service

بنگلورو،21؍دسمبر(ایس او  نیوز) کروڑوں روپیوں کے آئی ایم اے فراڈ کمپنی میں اپنی رقم گنوانے والے سرمایہ کاروں کی طرف سے رقم واپسی کے لئے حکومت کی طرف سے کلیم فارمس داخل کرنے کی سہولت مہیا کروائی گئی ہے اس کا ریاست بھر میں استعمال کیا گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اب تک 50ہزار سے زائد سرمایہ کاروں نے اپنے سرمایے کو واپس لینے کے لئے کامپٹنٹ اتھارٹی کے سامنے کلیم فارمس داخل کئے ہیں۔

ان سرمایہ کاروں کے مفادا ت کے تحفظ کے لئے قانونی جنگ کرنے والی تنظیم لنچا مکتا کے ذمہ دار نریندرا نے بتایا ہے کہ اب تک حکومت کی طرف سے قائم کامپٹنٹ اتھارٹی کے ویب سائٹ کے ذریعے جملہ 57ہزار کلیم درخواستیں جمع ہوئی ہیں ان میں سے کچھ درخواستوں میں غلطیوں اور چند دوہری درخواستوں کو اگرہٹا دیا جائے تو بھی یہ تعداد 50ہزار کے آس پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم اے فراڈ معاملہ سامنے آنے کے بعد اس گروپ کی کمپنیوں میں جن لوگوں نے سرمایہ لگایا تھا ان کے متعلق اتھارٹی نے جو فورنسک آڈٹ کروایا اس کے مطابق کمپنی میں سرمایہ لگانے والوں کی تعداد 80ہزار ہے ان میں 25نومبر 2020سے اب تک تقریباً 50ہزار سرمایہ کاروں نے اپنی رقم کو واپس لینے کے لئے کلیم داخل کیا ہے۔آن لائن درخواست داخل کرنے کے لئے مزید چار دن کی مہلت رہ گئی ہے۔

نریندرا نے کہا کہ ایسا نہیں کہ آن لائن کلیم داخل کرنے کی مدت ختم ہوتے ہی سرمایہ کاروں کو اپنی رقم کے لئے دعویٰ داخل کرنے کا موقع ختم ہو جائے گا۔ اس کے بعد بھی موقع رہے گا لیکن بعد میں جو موقع استعمال کیا جائے گا اس میں دستاویزات کی پوری جانچ ہو گی اوراس کے بعد ہی کلیم کو داخل کیا جا سکتا ہے۔ نریندرانے بتایا کہ فورنسک آڈٹ کے مطابق 80ہزار سرمایہ کاروں نے آئی ایم اے اور اس گروپ کی تمام کمپنیوں میں 1400کروڑ روپے تک کا سرمایہ لگایا۔ گھپلہ سامنے آنے کے بعد مختلف ایجنسیوں کی طرف سے جو بھی منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ضبط ہوئے ہیں ان سے 475کروڑ روپے ملنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان اثاثوں کی نیلامی کے مرحلہ میں یہ رقم اور بھی بڑھے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک اثاثوں کی لاگت کے بارے میں جو اندازہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق کلیمس پر سرمایہ کاروں میں رقم کے پی آئی ڈی قانون کی دفعات کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔ ان کی طرف سے آئی ایم اے سے جو منافع لیا گیا ہے اسے کاٹنے کے بعد سرمایہ کی جو رقم باقی رہ جائے گی۔ مجموعی رقم اورنیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کے اوسط کو نکال کر ہر سرمایہ کارکو جتنی رقم منافع کاٹ کر ملنی ہے وہ لوٹا دی جائے گی۔ بعض لوگوں کو کلیم فارمس داخل کرنے میں دشواری کے بارے میں ایک سوال پر نریندرا کمار نے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں لنچا مکتا نے اتھارٹی سے گزارش کی ہے کہ راست طور پر جو درخواستیں جمع کروائی جائیں ان کو بھی قبول کیا جائے لیکن کورونا وائرس کے خوف سے کسی سرکاری دفتر میں دستاویزات راست طور پر نہیں لئے جا رہے ہیں اور آن لائن کے لئے اصرار کیا جا رہا ہے۔


Share: